31.5 C
Islamabad
Friday, March 6, 2026
spot_img

سلیگوری کوریڈور ، بنگلادیش اور بھارت کے درمیان نیا تنازعہ

بھارتی زی ٹی وی کی 29 مئی کی ایک نیوز رپورٹ، بھارت و امریکہ کے مقتدر سیکیوریٹی اداروں کے اشتراک اور آئندہ عزائم کی غماز ہے۔ اس رپرٹ میں بنگلہ دیش-پاکستان-افغانستان،-ایران-چین سٹریٹیجک محور کو نام نہاد قرار دیتے ہوئے، چین-بھارت تعلقات میں ممکنہ رُکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔

زی ٹی وی ہی کےُمطابق، بھارت نے ڈھاکہ کی دھمکیوں کے باعث سیلگری کوریڈور میں رفائیل فائٹر جیٹ اور روسی ساخت فضائی ایس-400 دفاعی نظام متحرک کردیا ہے۔
اس سلسلے میں، 30 مئی کو سنگاپور شنگریلہ مکالمہ کے زیرِ عنوان، امریکی سیکریٹری دفاع، ہیگسیتھ نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ہمیں بیجنگ سے خطرہ لاحق ہے۔ چین عسکری مہم جوئی کے ذریعہ انڈو۔پیسیفک (بحرِ ہند اور بحر الکاہل) ریجن میں طاقت کا توازن بگاڑنا چاہ رہا ہے اور یہ کہ امریکہ، کمیونسٹ چین کی جارحیت کے خلاف حکمتِ عملی دوبارہ ترتیب دے رہا ہے۔ اسے کہتے ہیں آ بیل مجھے مار۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ و بھارت، چین کے خلاف گٹھ جوڑ کررہے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ چین نےُکبھی کسی ملک پر جارحانہ قبضہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کے خلاف مہلک ہتھیار استعمال کیۓ؟ چین نے آج تک، امریکہ کی طرح افغانستان، عراق یا لیبیا کی تباہی و بربادی میں شرکت نہیں کی؟

چین نے ہمیشہ انسانیت کے لیۓ آواز اُٹھائی جبکہ امریکہ انسانیت سوز سلوک اور قتلِ عام پرمجرمانہ چُپ سادھے رہا اور فلسطینیوں کی نسل کُشی کے باوجود آج بھی اسرائیل کی سرپرستی کر رہا ہے؟

عوامی جمہوریہ چین نے ہانگ کانگ کی واپسی کے لیۓ، بھی نہایت تحمل اور دوراندیشی کا مظاہرہ کیا۔ برطانیہ کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے اور ہانگ کانگ کی پُر امن واپسی کے لیۓ ایک صدی انتظار کیا۔

تائیوان کے بارے میں بھی یہی سوچ و جذبہ غالب ہے باوجودی کہ صدر شی جن پنگ اور موجودہ نسل، تائیوان کی واپسی کے خواہاں اور منتظر ہیں۔
تصادم سے گریزاں، پُرامن بقائے باہمی کے علمبردار عوامی جمہوریہ چین کے اس نظریہ کے برعکس امریکہ اور نیٹو کو خودمختار اور آزاد ممالک کی جنگی مشقوں پر بھی اعتراض ہے جو اُن کا حق ہے۔ گذشتہ اپریل میں امریکہ اور فلپائن نے چین کے ساتھ تائیوان کے تنازعہ پر ایک مصنوعی جنگ کی مشقیں کیں جن میں سترہ ہزار فوجی شامل تھے۔ ایسے میں چینی بحریہ کی معمول کی گشت یا مشقوں پر بلا وجہ اعتراض کیوں؟

پاکستان سے 7 مئی کو، مُنہ کی کھانے اور فضائی برتری کا گھمنڈ چکناچور ہونے کے بعد، نئی دلی اب بنگلہ دیش کو دھمکانے میں مشغول ہے کہ وہ چین کے ساتھ پتنگیں نہ بڑھائے۔

:سیلگری کوریڈور کے بارے میں انڈین ایکپریس کے 25 مئی کے ایک تفصیلی مضمون سے اپنے قارئین کو آگاہ کرنے سے پہلے تاریخ کے جھروکوں سے چین پر ایک نظر
ساتھ ہی بھارت نے ان متبادل راستوں پر کام تیز کر دیا ہے جو بنگلہ دیش کو بائی پاس کرتے ہیں۔ جیسے کالادان ملٹی موڈل ٹرانزٹ پراجیکٹ جو کولکتہ کو میزورم سے میانمار کے ذریعے جوڑتا ہے۔

یہ ردعمل صرف انفرا اسٹرکچر کا معاملہ نہیں بلکہ ایک سٹریجیٹک یاد دہانی ہے کہ اگر ڈھاکہ، بھارت کی سٹریجیٹک خودمختاری کو چیلنج کرے گا تو اسے اقتصادی و سیاسی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

:بیجنگ میں یونس کا “چکنز نیک” دبانا اور شیخ حسینہ کے بعد طاقت کا بدلتا توازن

اگست 2024 میں شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے، بھارت کے خدشات بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ حسینہ حکومت کے نئی دہلی کے ساتھ خوشگوار تعلقات تھے مگر یونس کی عبوری حکومت کا لہجہ مختلف ہے۔ بنگلہ دیش میں بھارت مخالف بیانیہ زور پکڑ رہا ہے اور ہندو اقلیتوں پر سیاسی حملے کیے جا رہے ہیں جن کی ڈھاکہ مسلسل تردید کر رہا ہے۔

چین کے ساتھ بنگلہ دیش کی بڑھتی ہوئی قربت بھی، بھارت کے لیے تشویش کا باعث ہے خصوصاً جب ڈھاکہ نے تیستا دریا منصوبہ چین کو دینے اور شمالی بنگلہ دیش میں لال مونیر ہاٹ ایئربیس کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے چینی مدد لینے کی منصوبہ بندی کی۔ یہ دونوں منصوبے بھارت کی سرحد کے قریب ہیں اور بھارتی سلامتی پر براہ راست اثر ڈال سکتے ہیں۔

:لال مونیر ہاٹ کی اہمیت
یہ فضائی اڈہ 1931 میں برطانوی دور میں بنایا گیا تھا اور دوسری جنگِ عظیم میں استعمال ہوا جسے اب دوبارہ فعال کرنے کا منصوبہ ہے۔ بھارت کو چینی مدد کے باعث خدشہ ہے کہ یہ فضائی اڈہ عسکری یا دوسرے مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
بھارتی اداروں کو تشویش ہے کہ اگر اسے مکمل فضائی اڈے میں تبدیل کر دیا گیا تو یہ بھارت کے سلیگری کوریڈور کے بالکل قریب واقع ہونے کی وجہ سے خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔

بھارت کا مؤقف ہے کہ بنگلہ دیش کو اپنی سلامتی کے لیے ایئربیس بنانے کا حق ہے لیکن وہ بھارت کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

:تاریخی اور جغرافیائی پس منظر
سلیکری کوریڈور کی موجودہ شکل تاریخی تبدیلیوں جیسے اینگلو-گورکھا جنگ، دوار جنگ سُگاؤلی اور پوناکھا معاہدوں اور مشرقی پاکستان (بعد میں بنگلہ دیش) کے قیام اور استعماری حکومت کی مصنوعی سرحدی تبدیلیاں جوسماجی و ثقافتی رشتوں کی تقسیم اور فاصلوں کا سبب بنیں۔

آج یہ کوریڈور، بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کے ساتھ واحد زمینی رابطہ اور نیپال، بھوٹان، بنگلہ دیش کے لیۓ ایک ٹرانزٹ پوائنٹ ہے۔

سلیگری شہر ایک اہم ٹرانسپورٹ مرکز ہے جہاں سے سڑک، ریل اور فضائی ٹریفک گزرتی ہے اور دونوں جانب قانونی و غیر قانونی سرگرمیاں بشمول تجارتی و انسانی آمد و رفت،منشیات و انسانی سمگلنگ بھی جاری رہتی ہیں۔

:سلامتی کے چیلنجز
یہ کوریڈور، جغرافیائی طور پر انتہائی نازک ہے، خاص طور پر پھانسی دیوا (بنگلہ دیش کے قریب) اور پانی ٹنکی (بھارت۔نیپال) سرحد کے قرییب ہے۔ اسی طرح چمبی ویلی ٹرائی جنکشن کی نزدیکی (بھارت، بھوٹان اور چین کا سنگم) مزید پیچیدگیاں پیدا کرتی ہے۔

اسی علاقہ میں،2017 میں چینی تعمیرات کے باعث ڈوکلام بحران پیدا ہوا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر شمال سے بیک وقت کوئی خطرہ (چین) اور جنوب سے کوئی دباؤ (بنگلہ دیش) کی وجہ سے ہو تو یہ کوریڈور بند ہوسکتا ہے جس سے بھارت کی شمال مشرقی ریاستیں کٹ سکتی ہیں۔

یہ کوریڈور، مستقبل کے کسی چین-بھارت عسکری تنازعہ میں بھی مرکز ی اہمیت کی وجہ سے مشکل کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر اگر چین بنگلہ دیش کے اڈوں تک رسائی حاصل کر لے۔

:چین کی بڑھتی موجودگی
محمد یونس کی قیادت میں بنگلہ دیش کی چین سے دفاعی اور معاشی قربت مزید بڑھ گئی ہے۔ چین نہ صرف ہتھیار فراہم کر رہا ہے بلکہ سڑکیں، پل، ہوائی اڈے اور ریلویز بھی تعمیر کر رہا ہے۔ دونوں ممالک مشترکہ فوجی مشقیں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں اور چینی کمپنیاں اسٹریٹجک انفرا اسٹرکچر پر اثر انداز ہو چکی ہیں۔بنگلہ دیش میں بڑھتا ہوا چینی عمل دخل بھی بھارت کے لیۓ خطرہ کی گھنٹی بنتا جارہا ہے۔

:بھارت کا ردعمل
بھارت اس خطرے کے پیش نظر متبادل راستوں پر کام تیز کر رہا ہے، جیسے کالادان پراجیکٹ، جو میزورم کو کولکتہ سے میانمار کے ذریعے جوڑتا ہے جبکہ بھارت-میانمار-تھائی لینڈ شاہراہ منی پور کو جنوب مشرقی ایشیا سے جوڑتی ہے۔

بھارت اندرونِ ملک بھی، کوریڈور میں ریل و سڑک کے جدید نظام میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ ہنگامی حالات میں فوجی اور شہری وسائل کو فوری طور پر منتقل کیا جا سکے۔

سلیگری کوریڈور : ایک حقیقت
اس کوریڈور میں بہار کے ضلع کشن گنج، مغربی بنگال کے اضلاع دارجلنگ، جلپائی گوری، کُوچ بہار، علی پور دوار اور اتر دیناج پور کے شمالی حصے شامل ہیں

سلیگری شہر نیپال، بھوٹان، بنگلہ دیش اور بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کے لیے زمینی و فضائی ٹرانزٹ پوائنٹ ہے۔

کوریڈور کی سب سے تنگ چوڑائی 21–22 کلومیٹر ہے۔

اس کے مغرب میں نیپال، شمال میں بھوٹان اور جنوب میں بنگلہ دیش ہے۔

ڈوکلام تنازعہ،2017 بھی اسی کاریڈور کی سٹریٹیجک اہمیت کے باعث ہوا۔

بھارت نے 2023 میں یہاں سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کا فیصلہ کیا۔

مئی 2025 میں “تیستا پراحار” فوجی مشق اسی خطے میں کی گئی۔

سلیگری کوریڈور صرف نقشے پر ایک تنگ سی جگہ نہیں، بلکہ بھارت کی سلامتی، سفارت کاری، اور عسکری حکمت عملی کا مرکز ہے۔ اس لحاظ سے یہاں گڑبڑ یا خلل سے پورا بھارت متاثر ہوسکتا ہے۔ چین اور بنگلہ دیش میں بڑھتی ہوئی حالیہ قربت کی وجہ سے یہ کوریڈور، ایک بار پھر بھارت پالیسی سازوں کی توجہ کا مرکزِ بن چکا ہے۔

Imtiaz Gul
Imtiaz Gul
Imtiaz Gul , chief editor MatrixMag, is political analyst on national and regional affairs. He regularly appears as an analyst/expert on Pakistani and foreign TV channels as well as the Doha-based Al-Jazeera English/Arabic TV channel, ABC News Australia for commentary on China, Afghanistan security and militancy.

Related Articles

Latest Articles