25.8 C
Islamabad
Friday, March 6, 2026
spot_img

جارحانہ پالیسی: بھارت کے لئے کوئی سبق ؟

‎کیا بھارت نے خود سر اوربے لگام اسرائیل کی حالیہ ہزیمت سے کچھ سبق لیا ہے؟ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن کھیل بدل چکا ہے اور اسرائیل عسکری اور بلکہ نفسیاتی طور پر ٹوٹ چکا ہے۔
برتر ٹیکنالوجی بڑی حد تک دفاعی تحفظ تو فراہم کرسکتی ہے لیکن جذبہ سے سرشار کسی قوم کو نیچا نہیں دکھاسکتی اور بالخصوص ایک ایسی قوم کو جو اپنے ہزاروں سالہ پُرانے قومی تشخص اور مشترکہ مذہبی عقیدے پر فخر کرتی ہو۔
‎پہلگام واقعہ کے فوراً بعد، بھارت نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیۓ نہ صرف یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا بلکہ 7 سے 10 مئی کے درمیان پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، ڈرونز اور میزائل حملوں کی ایک نئی وضع کردہ “واردات”کے ذریعہ پاکستان کو سبق بھی سکھانا چاہا مگر اَے بَسا آرْزُو کہ خاک شُدَہ۔
‎ایسا لگتا ہے یہ سارا واقعہ کسی کثیرالجہتی اسکرپٹ کا حصہ تھا۔ اس سے قطع نظر، بھارتی حکومت کا بیانیہ اندرون و بیرون ملک پذیرائی نہ پا سکا اور شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا گیا۔

‎بھارتی حکام، زیادہ تر مبہم بیانات کی اوٹ میں خود کو معصوم ظاہر کرتے رہے۔ 7 مئی کو پاکستان کے خلاف جارحیت کے باوجود، بھارت نے اسے پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گردی کا جواز اور خود کو اس کا شکار دکھانے کی بھرپور کوشش کی جسے بین الاقوامی برادری کی اکثریت نے مسترد کردیا۔
‎بھارت کی جانب سے اسرائیل کی کھلی حمایت، اسرائیلی جارحیت کی مذمت سے انکار اور ایران کے خلاف اسرائیلی تشدد کی مذمت کرنے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے مشترکہ بیان پر دستخط سے انکار بھی، تہران کی ناراضگی کا سبب بنا۔
چین کے شہر چنگڈاؤ میں 26 جون کو منعقدہ ہونے والی ایس سی او کے دفاعی وزراء اور سلامتی کے مشیروں کی کانفرنس میں بھارت کو مزید تنہائی ( توہین نہ بھی کہا جائے) کا سامنا کرنا پڑا- مشترکہ اعلامیہ میں “بلوچستان میں عسکریت پسند سرگرمیوں” کا ذکر تو کیا گیا لیکن 22 اپریل کو کشمیر میں ہونے والے حملے کا کوئی ذکر نہیں ہوا۔
‎بھارت نے اس اعلامیہ کی توثیق سے انکار کرتے ہوئے، یہ الزام عائد کیا کہ اس میں بلوچستان سے متعلق دہشت گردی کو ضرورت سے زیادہ اجاگر کیا گیا ہے جبکہ بھارت پر ہونے والے حملوں کو کم یا نظر انداز کیا گیا۔ اور اس موقف کو پاکستان کے حق میں تصور کیا گیا۔
‎ایران-اسرائیل تنازعہ اور ایس سی او سیکیورٹی کانفرنس میں بھارتی رویہ اس وقت نمایاں ہوا جب دہلی میں ایرانی سفارت خانے نے ایک بیان میں “بھارت کے تمام معزز عوام اور سیاسی جماعتوں” کا ایران کے ساتھ کھڑے ہونے پر شکریہ ادا کیا۔
حیران کن طور پر، اس بیان میں بھارتی حکومت کا کوئی ذکر نہیں تھا جو بظاہر بھارت کے دوغلے پن پر، ایران کی ناراضگی کی عکاسی کرتا ہے حالاں کہ بھارت خود کو غیر جانبدار اور جمہوری ملک قرار دیتا ہے۔
‎اگر مودی حکومت نے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی اور روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتی رہی تو آئندہ ہفتوں اور مہینوں میں بھارتی سفارت کاری کو مزید چند دھچکوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

‎اس کے برعکس، پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے پاکستانی عوام اور حکومت کا گہرا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: “ایرانی قوم کبھی بھی یہ نہیں بھولے گی کہ پاکستانی عوام اور حکومت نے اُن کی برادرانہ حمایت کی”۔
بھارتی دوغلا پن، چین اور روس کی نظروں سے بھی اوجھل نہیں رہا جو اب ایران سے دوبارہ روابط بڑھا رہے ہیں، پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور بھارت کو بالواسطہ سفارتی انداز میں نظرانداز کر رہے ہیں۔
‎یہ دونوں ممالک اس بات کا بھی مشاہدہ کر رہے ہیں کہ بھارت نے اب بنگلہ دیش کو بھی دریائے گنگا کے پانی سے متعلق 1996 میں ہونے والے معاہدے کی تجدیدِ نو کی دھمکی دی ہے۔

NDTV کی رپورٹ کے مطابق، بھارت نے ڈھاکہ کو پیغام دیا ہے کہ اسے آئندہ 10-15 سالوں کے لیے ایک نیا معاہدہ چاہیے کیونکہ اسے اپنی ترقیاتی ضروریات کے لیے زیادہ پانی درکار ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ زیریں بنگلہ دیش کے ساحلی علاقہ کی کوئی ضرورت یا اہمیت ہی نہیں۔

‎رپورٹ میں بھارتی وزارت خارجہ کے ایک افسر کے حوالے سے کہا گیا:
‎“پہلگام سے پہلے ہم معاہدے کو مزید 30 سال کے لیے بڑھانے پر آمادہ تھے لیکن اب صورتحال یکسر بدل گئی”۔
یہ ایک انتہائی خودغرضانہ رویہ ہے جسے بھارت نے ایک بار پھر (بطور بالائی ریاست) اپنایا ہے۔ اس کے برخلاف، چین نے ہمیشہ بات چیت کے ذریعہ مسائل کے حل پر زور دیا اور ہمسایہ ممالک کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے ہمیشہ گریز کیا ہے۔
‎جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے، وہ طاقت کے نشہ میں اس بات کو نظر انداز کر گیا کہ ایران، اسرائیلی حملے کے لیے مکمل طور پر تیار تھا کیونکہ یہ دونوں ممالک ایک طویل عرصہ سے تنازعات اور پراکسی جنگ جیسی حالت میں ہیں۔
‎7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد امریکہ اور نیٹو اتحادیوں کی جانب سے دی گئی کھلی چھوٹ — جس کے تحت غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی اجازت ملی — نے غالباً اسرائیل کو ایرانی میزائلی قوت و صلاحیت کے بارے میں دھوکہ میں رکھا۔
‎ایک متحد اور ثابت قدم تہران – جس میں آیت اللّٰہ کی قیادت، پاسداران انقلاب اور ایرانی عوام شامل تھے – نے خودغرض اور جارح مزاج اسرائیلی حکام کو حیران و ششدر کر دیا۔
‎بالآخر اسرائیل کو کڑوا گھونٹ پینے پر مجبور ہونا پڑا اور یامریکی صدر کے حکم پر “بھرم بچانے والا” سیز فائر تسلیم کرنا پڑا۔

‎بھارت نے غالباً اسرائیلی تجاوز اور دست درازی کی تقلید کرتے ہوئے پاکستان پر سرحد پار حملے کا فیصلہ کیا — جیسے اسرائیل نے فلسطینیوں اور لبنانیوں پر کیا۔
‎دونوں ممالک نے اپنی تکنیکی برتری پر حد سے زیادہ انحصار کیا — یہ سمجھتے ہوئے کہ مخالف محض بمباری سے جھک جائے گا۔

‎لیکن بھارت اور اسرائیل دونوں نے ایران اور پاکستان کی قومی غیرت اور مزاحمت کا غلط اندازہ لگایا اور یہ بھول گئے کہ ٹیکنالوجی میں بالا دستی، نقصان تو پہنچا سکتی ہے لیکن قومی عزم و استقامت کو شکست نہیں دے سکتی — خاص طور پر ایران جیسا ملک جو ہزاروں سالہ تاریخ اور ثقافت کا حامل و مظہر ہے۔
‎ایرانی اکثریت کا مشترکہ مذہبی عقیدہ – شیعہ مکتب فکر – نے بھی اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں ایرانی ثقافتی فخر کو مزید تقویت بخشی۔

‎پاکستان نے بھی جو ایک ایٹمی طاقت ہے اور جسے چین جیسے دیرینہ دوست کی مکمل حمایت حاصل ہے، نے بھارتی جارحیت اور سفارتی حملوں کو مؤثر طور پر ناکام بنادیا۔
‎اسرائیل اور بھارت کی جارحانہ حکمت عملی نے ایک نئی اسٹریٹجک صف بندی کو جنم دیا ہے۔

‎آخر میں، تہران اور ایران کے دیگر حصوں میں موساد کے زیر قیادت ایک بڑے جاسوسی نیٹ ورک کا بے نقاب ہونا، پاکستان کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔
‎ایسے نیٹ ورک دراصل سائبر اور جنگی حملوں کے لیے بنیاد فراہم کرتے ہیں، جو قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
‎لہٰذا SCO ممالک کے درمیان ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری اور قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔

آئیے! اس پس منظر میں، اب BRICS پر ایک نظر ڈالتے اور دیکھتے ہیں کہ بھارت اس کا سہولت کار ہے یا رکاوٹ؟

‏BRICS (برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ) کے ترقی پذیر ممالک کا گروپ ایک نئے گارنٹی فنڈ کے اعلان کی تیاری کر رہا ہے، جسے نیو ڈیولپمنٹ بینک (NDB) کی حمایت حاصل ہوگی، تاکہ فنانسنگ کے اخراجات کم کیے جا سکیں اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ اس مجوزہ “BRICS ملٹی لیٹرل گارنٹی” (BMG) میکانزم کو تکنیکی منظوری مل چکی ہے۔

یہ اقدام عالمی بینک کی ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی (MIGA) سے متاثر ہے اور اس کا مقصد ٹرمپ انتظامیہ کی غیر متوقع پالیسیوں سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال سے نمٹنا ہے۔ اس کے علاوہ، حالیہ ایران-اسرائیل تنازعہ اور اس سے وابستہ خطرات جیسے بین البرِاعظمی کاروباری رکاوٹیں اور مالیاتی منڈیوں میں کمزوریاں بھی اس متبادل حل کی ضرورت کے پیچھے عوامل ہیں۔
BRICS ایک پرکشش متبادل عالمی نظام پیش کرتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جب بھارت، امریکہ اور اس کے چین-روس مخالف مغربی اتحاد کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہے، تو کیا یہ تنظیم حقیقتاً اپنے مقاصد حاصل کر سکتی ہے؟ جیسا کہ کرنسی سویپ، غیر ڈالر باہمی تجارت – جن اقدامات سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خدشہ ہے کہ وہ ڈالر کی بالادستی کو کمزور کر سکتے ہیں۔

‎روس اور چین کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کرنا اور ان کی کردار کشی مغرب، خاص طور پر G7، QUAD، AUKUS، NATO اور 2+2 (بھارت، امریکہ) جیسے اتحادوں کی بنیاد ہے۔ ان سب میں بھارت کو چین کے علاقائی متبادل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
‎اس پس منظر میں، کیا باقی BRICS رکن بھارت پر اعتماد کر سکتے ہیں؟ خاص طور پر جب کہ بھارت میں ایک ہندو انتہا پسند نظریات کی حکومت ہے اور وہ پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے چھوٹے ممالک کے ساتھ تکبر اور بے حسی سے پیش آتا ہے۔ بھارت کی ضد، سارک کو مفلوج کرچکی ہے اور ممکن ہے کہ وہ برکس کی ترقی میں بھی رکاوٹ بنے یا ان اقدامات کو روکے جو امریکہ کو اپنے ڈالر مفادات کے خلاف محسوس ہوں؟
لہٰذا ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: کیا بھارت BRICS کے ایجنڈے کا سہولت کار ہے یا اس کا خفیہ مخالف؟

‎دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا بھارت، مغرب کے ساتھ اپنا مفاد اتحاد جاری رکھتے ہوئے، روس اور چین کی زیرِ قیادت ایک ایسی تنظیم کو آگے بڑھنے دے گا جو مغربی پابندیوں یا دباؤ کا شکار ہیں؟ روس اور چین کے خلاف مختلف میدانوں میں، مغربی تعصب کسی سے پوشیدہ نہیں اور دیکھا جا سکتا ہے۔
کیا ایسے میں بھارت برکس کے اُن منصوبوں میں ایک حقیقی شراکت دار بن سکتاہے جو مغربی تسلط کے خلاف بیجنگ اور ماسکو کی سوچ سے ہم آہنگ ہیں جبکہ مغرب برکس کے مالیاتی اور تجارتی نظام کو مشکوک نگاہ سے دیکھتا ہے؟
لہٰذا ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا بھارت ایک خفیہ رکاوٹ اور امریکی مفادات کا محافظ ہے؟ کیا BRICS ایسی حالت میں ترقی کر سکتا ہے جب بھارت مشرق اور مغرب دونوں کیمپوں میں دلچسپی رکھتا ہو؟ بھارت اسرائیل-ایران تنازعہ کے دوران نئی دہلی کا مبہم رویہ اور اسرائیلی جارحیت کی مذمت سے گریز، اب دیگر علاقائی طاقتوں پر آشکار ہوچکا ہے؟
ایرانی قیادت نے بھارت کے اس رویے کو اسرائیل اور بالواسطہ طور پر امریکہ کی حمایت کے طور پر دیکھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا بھارت واقعی G7 اور BRICS دونوں کے درمیان مؤثر اور متوازن کردار ادا سکتا ہے؟ اور کیا دیگر BRICS اراکین اسے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھیں گے؟

Imtiaz Gul
Imtiaz Gul
Imtiaz Gul , chief editor MatrixMag, is political analyst on national and regional affairs. He regularly appears as an analyst/expert on Pakistani and foreign TV channels as well as the Doha-based Al-Jazeera English/Arabic TV channel, ABC News Australia for commentary on China, Afghanistan security and militancy.

Related Articles

Latest Articles